’نسوانی قیادت میں کائناتی تخلیق‘ کی تعریف پیش کرتا ہے اور استدلال کرتا ہے کہ قدیم سنگی دور کے فن اور بین الثقافتی اساطیری نمونے، ایک یکساں ’عظیم ماں‘ کے تصور کے بجائے متعدد فعال نسوانی خالق ہستیوں کی تائید کرتے ہیں، جس کے لیے نسلیاتی اور آثارِ قدیمہ کے شواہد موجود ہیں۔